14 جولائی 2011 - 19:30

روس کے صدر نے عالمي برادري سے اپيل کي ہے کہ وہ دنيا ميں تنازعات کو پھيلنے سے روکنے کے لئے مختلف فريقوں کے درميان مذاکرات شروع کرانے ميں مدد کرے۔

ابنا: يہ بات انہوں نے کريملن ميں ايک تقريب سے خطاب کرتے ہوئے کہي جس ميں دنيا کے گيارہ ملکوں ميں روس کے نئے سفيروں کي تعيناتي کے احکامات جاري کئے گئے۔صدر ديمتري ميدوي ديف کا کہنا تھا کہ دنيا کو اتنہائي سخت مسائل کا سامنا ہے۔انہوں نے کہا کہ مشرق وسطي اور شمالي افريقا کے حالات تاريخي پہلوؤں کے حامل ہيں اور مرکزي يورپ ميں ديوار برلن کے خاتمے کے بعد رونما ہونے والے واقعات کے اعادے کا سبب بن سکتے ہيں۔روسي صدر نے واضح کيا کہ انکا ملک مشرق وسطي کے مسائل اور مشکلات کے حل کي غرض سے فوجي طاقت کے بے جا استعمال پر تشويش ميں مبتلا ہے- انہوں نے کہا کہ فوجي طاقت کے بے جا استعمال کي وجہ سے سيکڑوں بے گناہ لوگ مارے جا رہے ہيں۔صدر ميدوي ديف نے کہا کہ عرب دنيا کے موجودہ حالات نے ان ملکوں ميں سياسي اور اقتصادي اصلاحات کي ضرورت کو اجاگر کرديا ہے جو ان ملکوں کے لوگوں کا اصل مطالبہ ہے۔انہوں نے يہ بات زور ديکر کہي کہ روس پوري دنيا ميں اپنے دوست ملکوں کي مددکے لئے تيار ہے تاکہ بقول انکے ان ملکوں ميں قانون کي حکمراني اور سياسي و معاشي استحکام قائم کيا جاسکے۔

روس کے صدر نے عالمي برادري سے اپيل کي ہے کہ وہ دنيا ميں تنازعات کو پھيلنے سے روکنے کے لئے مختلف فريقوں کے درميان مذاکرات شروع کرانے ميں مدد کرے۔ يہ بات انہوں نے کريملن ميں ايک تقريب سے خطاب کرتے ہوئے کہي جس ميں دنيا کے گيارہ ملکوں ميں روس کے نئے سفيروں کي تعيناتي کے احکامات جاري کئے گئے۔صدر ديمتري ميدوي ديف کا کہنا تھا کہ دنيا کو اتنہائي سخت مسائل کا سامنا ہے۔انہوں نے کہا کہ مشرق وسطي اور شمالي افريقا کے حالات تاريخي پہلوؤں کے حامل ہيں اور مرکزي يورپ ميں ديوار برلن کے خاتمے کے بعد رونما ہونے والے واقعات کے اعادے کا سبب بن سکتے ہيں۔روسي صدر نے واضح کيا کہ انکا ملک مشرق وسطي کے مسائل اور مشکلات کے حل کي غرض سے فوجي طاقت کے بے جا استعمال پر تشويش ميں مبتلا ہے- انہوں نے کہا کہ فوجي طاقت کے بے جا استعمال کي وجہ سے سيکڑوں بے گناہ لوگ مارے جا رہے ہيں۔صدر ميدوي ديف نے کہا کہ عرب دنيا کے موجودہ حالات نے ان ملکوں ميں سياسي اور اقتصادي اصلاحات کي ضرورت کو اجاگر کرديا ہے جو ان ملکوں کے لوگوں کا اصل مطالبہ ہے۔انہوں نے يہ بات زور ديکر کہي کہ روس پوري دنيا ميں اپنے دوست ملکوں کي مددکے لئے تيار ہے تاکہ بقول انکے ان ملکوں ميں قانون کي حکمراني اور سياسي و معاشي استحکام قائم کيا جاسکے۔.............

/169